Quran Majeed

اللہ کا کلام تمام کلاموں ک بادشاہ ہے۔

قرآن مجید ایسی کتاب ہے جس کا دیکھنا بھی عبادت ہے اس کا چھونا بھی عبادت ہے اس کا پڑھنا بھی عبادت ہے۔ اس کا سننا بھی عبادت اور اسکا سنانا بھی عبادت ہے۔ اس کا سمجھنا بھی عبادت ہے اس پر عمل کرنا بھی عبادت ہے اور اس کاحفظ کرنا بھی بہت بڑی عبادت ہے۔

حضرت سعید بن سلیم حضور اکرم صلی اللہ علیہِ وآلہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ قیامت کے دن کوئی سفارشی اللہ کے نزدیک قرآن سے زیادہ بلند مرتبہ اور افضل شان والا نہیں ہوگا نہ کوئی نبی نہ کوئی فرشتہ نہ کوئی اور۔

مولانا مفتی تقی عثمانی مدظلہ فرماتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا یعنی جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطافرمائی،کتاب سے مراد ہے اللہ کی کتاب ہے وہ لوگ اس کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں وہی لوگ در حقیقت اس کتاب پر ایمان لانے والے ہیں۔

یعنی صرف زبانی طور پر کتاب پر ایمان لانے کا دعویٰ کافی نہیں جب تک کہ اس کی تلاوت کا حق ادا نہ کیا جائے۔ اس آیت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس طرف متوجہ فرمایا کہ زبان سے تو ہر شخص یہ کہ دیتا ہے کہ میں اللہ کی کتاب پر ایمان لاتا ہوں لیکن جب تک وہ اس کی تلاوت کا حق ادا نہ کرے اس وقت تک وہ اپنے اس دعویٰ ایمان میں صحیح معنی میں سچا نہیں۔

قرآن کریم کے کچھ حقوق ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے اوپر مقرر فرمائے گئے ہیں وہ یہ ہیں۔

پہلا حق یہ ہے کہ قرآن کریم کی صحیح طریقے سے تلاوت کرنا۔

دوسرا حق یہ ہے کہ قرآن کریم کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔

تیسرا حق یہ ہے کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور ہدایات پر عمل کرنا۔

اگر قرآن کریم کے یہ تین حقوق کوئی شخص ادا کرے تو یہ کہا جائے گا کہ اس نے قرآن کریم کا حق ادا کردیا لیکن اگر ان تین میں سے کسی ایک حق کی ادائیگی نہ کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کا حق ادا نہیں کیا۔

قرآن پاک کا نام ادب سے لینا چاہیے۔

leave your comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Mobile Apps
Mobile Apps
Top