Quaid E Azam

Quaid E Azam

قائدِاعظم محمد علی جناح :

کچھ لوگ پیدا ہی عظیم ہوتے ہیں اور کچھ اپنی جدوجہد اور کارناموں کی بدولت عظمت حاصل کر لیتے ہیں بانئ پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناح میں عظمت اور قابلیت اور نیک نامی کی ساری خوبیاں پیدائشی تھیں اور یہ خوش قسمتی ہمیں نصیب ہوئی کہ ربِ کائنات نے باب الاسلام سندھ کے مشہور شہر کراچی میں 25دسمبر 1876 بروز پیرکو جناح پونجا کے گھر پیدا ہونے والے بچے جسکی پیدائش ہی کے وقت سے لوگوں نے دیکھتے ہی کہنا شروع کردیا تھا کہ یہ بچہ ایک دن بادشاہ ہو گا۔اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ سچ ثابت ہوگیا کہ جب برصغیر میں ایک آزاد اسلامی ملک کے قیام کا خواب جو مسلمانانِ ہند گذشتہ دو صدیوں سے دیکھتے چلے آرہے تھے وہ14   اگست1947 کو قائدِاعظم کے مدبرانہ صلاحیتوں ، فہم وفراست اور بے مثال قائدانہ صفات سے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد مملکت خداداد پاکستان کی شکل میں معرضِ وجودمیں آگیا۔

قائدِاعظم نے ابتدائی تعلیم سندھ مدرستہ الاسلام کراچی سے حاصل کیااور سولہ سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ 1892 میں آپ بیرسٹری کا امتحان پاس کر کے لندن پہنچ گئے اوردل و جان سے حصولِ علم میں منہمک ہو گئے۔

بانی پاکستان تدبر اور فراست کا مجسمہ تھے۔ آپ کا کوئی عمل حکمت سے خالی نہیں تھا آپ جو اقدام کرتے اس پر اچھی طرح سے غوروفکر کرلیتے تھےاس کے بعد اسے عملی صورت دیا کرتے تھے۔ تحریک پاکستان کے دوران متعدد مراحل پر آپ نے فیصلے میں تاخیر کا مظاہرہ کیا جس سےجزوی طور پر مسلمانوں میں مایوسی پیدا ہوئی لیکن جب آپ نے فیصلے کا اعلان کیا تو ہر شخص نے آپ کے تدبر و فراست کو داد دی۔

قائدِاعظم کو نظم و ضبط نافذ کرنے والے قواعد پسند تھے ۔ سب سے پہلے وہ نظم و ضبط اپنی ذات پر نافذ کرتے تھے۔جذبات ان کے اندر تھے اور شدید تھے لیکن وہ اپنے جذبات و احساسات اور رحجانات کو ہمیشہ بلند تر مقاصد اور اعلیٰ اصولوں کے تابع رکھتے تھے۔

قائدِاعظم نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مفاہمت پیداکرنے کےلیے سال ہاسال انتھک کوششیں کیں۔لیکن اس وقت وہ بالکل مایوس ہو گئےجب برطانوی حکومت کی منعقد کردہ گول میز کانفرنس     1930 اور 1931 میں پہنچ کر ہندوؤں نے بشمول مسٹر گاندھی  ہندو مسلم معاہدے کے تمام احکامات کا خاتمہ کردیا ۔ یہ معاہدہ بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کی چند نشستوں کے لیے ہونا تھا۔ قائدِاعظم نے اس قدر دلبرداشتگی محسوس کی کہ  انہوں نے انڈیا کو یہیں سے خیر باد  کہہ دیا لیکن بعد میں انہوں نے محسوس کیا کہ میری قوم اس وقت نہایت نازک مرحلے سے گزرہی ہے تووہ انڈیا واپس آگئےاور مسلمانوں کو ازسرِ نو منظم کیا۔ یہیں سے ان کی قیادت کا ایک نہایت شاندار دور شروع ہوا۔

آل انڈیا مسلم لیگ سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے کہا۔  میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہےکہ مسلمانوں کو آزاد و سربلند دیکھوں، میں چاہتاہوں کہ جب میں مروں تویہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خد اگواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی ،تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کردیا۔

طلبا سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔  

علم تلوار سے بھی زیادہ طاقتور ہے اس لیے علم کو اپنے ملک میں بڑھائیں کوئی آپ کو شکست نہیں دے سکتا۔پاکستان کی پہلی سالگرہ کے موقع پر آپ نے خطاب کرتے ہوئے نصیحت فرمائی۔ قدرت نے آپ کو ہر نعمت سے نوازہ ہے آپ کے پاس لامحدود وسائل موجود ہیں آپ کی ریاست   کی بنیادیں مضبوطی سے رکھ دی گئی ہیں اب یہ آپ کاکام ہے کہ نہ صرف اس کی تعمیر کریں بلکہ جلد از جلد اور عمدہ سے عمدہ تعمیر کریں۔سو آگے بڑھیے اور بڑھتے ہی جایئے۔

leave your comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Mobile Apps
Mobile Apps
Top