🌷قرآن مجید  کے آداب 🌷

🌷قرآن مجید کے آداب 🌷

🌷قرآن مجید کے آداب🌷

قرآن مجید اتنی مقدس اور با برکت کتاب ہے ک بغیر طہارت کاملہ کے چھونا جاٸز نہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے

لا یمسہ الا المطہرون

ترجمہ:اس کتاب کو نہ چھوۓ کوٸی مگر

پاکی کے ساتھ“

طہارت کاملہ سے مراد حدث اکبر اور حدث اصغر دونوں سے پاک ہونا ہے۔

قرآن مجید کا غلاف جو جلد کے ساتھ سلا ہو وہ بحکم قرآن ہے البتہ قرآن مجید کا جزودان جو علیحدہ کپڑے کا ہوتا ہے اسے ہاتھ لگانا امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک جاٸز ہے۔امام مالکؒ اور امام شافعیؒ اس کی بھی اجازت نہیں دیتے۔

جو کپڑا آدمی نے پہن رکھا ہو اس کی آستین یا دامن سے قرآن مجید کو بلا وضو چھونا بھی جاٸز نہیں البتہ علیحدہ چادر اور رومال سے چھوا جا سکتا ہے۔

قرآن مجید کی تلاوت کے بھی دو طرح کے آداب ہیں ظاہری اور باطنی۔

آداب ظاہری کی تفصیل یہ ہے:

باوضو اور قبلہ رو ہو کر بیٹھے۔

تلاوت کرتے وقت لباس بھی پاکیزہ ہونا چاہیے۔

ایسی جگہ نہ بیٹھے جہاں آنے جانے والوں کی تنگی ہو یا انکی پشت ہونے کا امکان ہو۔

قرآن مجید کو تکیہ رحل یا اونچی جگہ پر رکھے۔

تلاوت قرآن کا آغاز تعوذ اور تسمیہ سے کرے۔۔

جب دوران تلاوت کوٸی سورت آ جاۓ تو تعوذ پڑھنے کی ضرورت نہیں صرف تسمیہ پڑھا جاۓ۔

جب آغاز تلاوت سورت توبہ سے ہو تو تعوذ ضروری ہے اور تسمیہ میں اختیار ہے چاہے پڑھے چاہے نہیں۔

جب دوران تلاوت سورت توبہ آ جاۓ تو تعوذ تسمیہ دونوں کا پڑھنا ضروری نہیں۔

جہاں مختلف لوگ اپنے اپنے کاموں مہں مشغول ہوں وہاں زیر لب پڑھنا بہتر ہے۔

اگر تنہاٸی نصیب ہو تو اونچی آواز سے تلاوت کر سکتا ہے اگر کسی کی تکلیف کا اندیشہ ہو تو آہستہ پڑھے۔

اونچی آواز سے تلاوت کرتے ہوۓ اپنے کان یا رخسار پر ہاتھ نہ رکھے کیونکہ یہ گانے والوں کا طریقہ ہے۔

قرآن مجید کو تجوید کے اصولوں کے مطابق عمدہ اور صحیح مخارج اور صفات کا لحاظ رکھتے ہوۓ پڑھے۔

جتنا ممکن ہو سکے قرآن مجید کو ترتیل سے )ٹھہر ٹھہر کر ) پڑھے۔

رموز و اوقاف کا خیال رکھ کر تلاوت کرے۔

اپنی بساطکے مطابق خوش الحانی سے قرآن مجید کی تلاوت کرے تا ہم گانے کی طرز لگانا بے ادبی ہے۔

آیات رحمت پر رحمت کی دعا کرے جبکہ آیات وعید پر مغفرت کی دعا کرے۔

دوران تلاوت ادھر ادھر دیکھنا بے ادبی میں داخل ہے۔

تلاوت کرتے وقت اپنے پاٶں پر ہاتھ نہ رکھے اور نہ ہی ادھر ادھر کی چیزوں کے ساتھ کھیلے۔اگر ورق الٹنا پڑے تو انگلی پر تھوک زبان سے نہ لگاۓ کہ بے ادبی ہے۔

دوران تلاوت ناک میں انگلی ڈالنا ادب کے خلاف ہے۔

دوران تلاوت کسی سے بات نہ کرے اگر ضروری ہو تو آیت مکلمل کر کے ممکن ہو تو رکوع مکمل کر کے قرآن مجید بند کر کے بات کرے ۔دوبارہ تلاوت کرنے سے پہلے تعوذ ضرور پڑھے۔

آیات سجدہ پر سجدہ کرے فورا اگر فورا نہیں تو پہلی فرصت میں سجدہ کرے یہ ان آیات کا حق ہے۔

جب طبیعت تھک جاۓ تلاوت کرتے کرتے تو رک جاۓ تلاوت کے دوران طبیعت کا انشراح بہتر ہے۔

قرآن مجید مکمل کرنے پر دعا کرنا سنت نبویﷺ ہے۔

باطنی آداب :

قرآن مجید کی تلاوت کے باطنی آداب یہ ہیں

کلام پاک کی عظمت دل میں رکھے کہ کیسا عالی مرتبہ کلام ہے۔

اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریاٸی کو دل میں رکھے کہ جس کا کلام ہے۔

دل کو وساوس اور خطرات سے پاک رکھے۔

معانی کا تدبر کرے اور لذت کے ساتھ پڑھے۔

جن آیات کی تلاوت کر رہا ہے دل کو ان کے تابع بنا دے مثلاً اگر آیت رحمت پر ہے تو دل سرور بن جاۓ اور اگر آیت عذاب زبان پر ہے تو دل لرز جاۓ۔

اپنے کانوں کو اس درجہ متوجہ بنا دے کہ گویا اللہ تعالیٰ کلام فرما رہے ہیں اور یہ سن رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین

وما علینا الا البلاغ۔

Comments (1)


  1. MA SHA ALLAH Great Wordings

leave your comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Mobile Apps
Mobile Apps
Top